AI کا دور یا کیریئر کی موت؟ جونیئر ڈویلپر کی کہانی جس نے کارپوریٹ دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیا

AI کا دور یا کیریئر کی موت؟ جونیئر ڈویلپر کی کہانی جس نے کارپوریٹ دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیا · Avonetics
کارپوریٹ دنیا اور بالخصوص ٹیکنالوجی کی صنعت میں اس وقت ایک خاموش لیکن شدید بحران جنم لے رہا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال دفاتر میں بڑھ رہا ہے، نئے آنے والے نوجوان ڈویلپرز ایک عجیب اور خوفناک المیے کا شکار ہو رہے ہیں۔
ایک جونیئر فرنٹ اینڈ ڈویلپر نے حال ہی میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کارپوریٹ دنیا کی اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ محض دو مہینے کی نوکری کے دوران اس نے ۳۵ سے زیادہ بگ حل کیے اور پرانے کوڈ بیس میں کام کرنے میں مہارت حاصل کر لی، لیکن اس کا اعتراف ہے کہ اس کی خود سے کوڈ لکھنے کی صلاحیتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔
Read nextنوکریوں کی لائن میں 75 فیصد ماسٹرز ہولڈرز: تعلیم یا ویزا حاصل کرنے کا نیا شارٹ کٹ؟
کمپنیوں کی انتظامیہ کے لیے سب سے اہم چیز 'ویلیو' اور 'رفتار' بن چکی ہے۔ ہر فیچر کو ریکارڈ وقت میں لانچ کرنے کا دباؤ ڈویلپرز کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنا تمام تر کام AI کے ذریعے کروائیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض ڈیبگنگ اور AI کے کوڈ کی اصلاح کرنا طویل مدتی کیریئر کے لیے کافی ہے؟
اس کہانی نے کارپوریٹ دنیا کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ اب انسانوں کا خود سے کوڈ ٹائپ کرنا ایک پرانا اور غیر ضروری ہنر بن چکا ہے۔ ایک مبصر نے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے اور کی بورڈ پر کوڈ لکھنا کبھی بھی اتنا اہم نہیں رہے گا جتنا کہ کوڈ کے نتائج کو سمجھنا اور بزنس کو فائدہ پہنچانا ہے۔
تاہم، دوسرا طبقہ اس روش کو انتہا درجے کا خطرناک قرار دے رہا ہے۔ ایک اور ماہر نے دلیل دی کہ موجودہ نوکری میں تو AI کے سہارے کام چل جاتا ہے، لیکن جب نئی نوکری کے لیے انٹرویو دینا پڑے گا تو وہاں ہاتھ سے کوڈنگ کے بغیر ناکامی یقینی ہے۔ انٹرویو بورڈز کبھی بھی AI کے محتاج ڈویلپر کو ترجیح نہیں دیں گے۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsاس بحث میں ایک اور بہترین نقطہ نظر سامنے آیا جس میں ڈیبگنگ اور آرکیٹیکچر کا موازنہ فائر فائٹر اور فائر مارشل سے کیا گیا۔ ایک تبصرہ نگار کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کمپنیاں ہر وقت آگ بجھانے والے ڈویلپرز کو پسند کرتی ہیں، لیکن کامیاب اور پائیدار ادارے وہ ہوتے ہیں جو آگ لگنے سے پہلے کے اصول وضع کرتے ہیں۔ صرف ڈیبگنگ سیکھنا آپ کو ایک اچھا فائر فائٹر تو بنا سکتا ہے لیکن ایک بہترین آرکیٹیکچر بنانے والا نہیں بنا سکتا۔
کچھ سینئر پیشہ ور افراد اب جونیئرز کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر وہ AI استعمال کر بھی رہے ہیں تو کوڈ کو کاپی پیسٹ کرنے کے بجائے اسے دیکھ کر خود ٹائپ کریں تاکہ ان کے ذہن اور ہاتھوں کی ہٹ کر کام کرنے کی عادت برقرار رہے۔
کیا کارپوریٹ دنیا جونیئرز کو اپاہج بنا رہی ہے یا یہ ترقی کا نیا راستہ ہے؟ اس تمام ڈرامائی اور فکر انگیز داستان کا تفصیلی جائزہ اور دونوں ہوسٹس کی زبردست بحث سننے کے لیے، 'دفتری راز' کے تازہ ترین پوڈکاسٹ ایپی سوڈ کو لازمی سنیں۔