زبردستی کا ڈسپلن بمقابلہ سمارٹ سسٹم: سولو فاؤنڈر نے کامیابی کا راز ڈھونڈ لیا

ایک انجینئر نے بتایا کہ کس طرح ڈائری اور ٹریلو کے استعمال نے اس کے کاروبار کو ڈوبنے سے بچایا، جبکہ ایک پرنٹ شاپ کے مالک کو پرانے گاہک نے بڑا جھٹکا دے دیا۔
Urdu

زبردستی کا ڈسپلن بمقابلہ سمارٹ سسٹم: سولو فاؤنڈر نے کامیابی کا راز ڈھونڈ لیا · Avonetics

🎧 Podcast episode
Coming soon — بلال & عائشہ are taking this one into the studio.
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

کاروبار کی دنیا میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ کامیابی کا واحد ذریعہ سخت اور زبردستی کا ڈسپلن ہے۔ لیکن ایک سولو فاؤنڈر اور انجینئر نے اس روایتی نظریے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نیا فارمولا پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، زبردستی کا ڈسپلن ایک عارضی حل ہے، جبکہ ایک سوچا سمجھا سسٹم طویل مدتی کامیابی کی ضامن ہے۔

ملازمت چھوڑ کر جب انہوں نے سولو فاؤنڈر کے طور پر کام شروع کیا، تو انہیں انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ اور سیلز جیسے ناپسندیدہ کام بھی کرنے پڑے۔ انجینئرنگ میں فوراً نتائج ملتے ہیں جبکہ مارکیٹنگ ایک صبر آزما عمل ہے۔ اس ذہنی کشمکش سے نکلنے کے لیے انہوں نے ایک چار نکاتی سسٹم تیار کیا۔

Read nextکیا .COM ڈومین اب بھی کاروبار کے لیے 'گولڈ سٹینڈرڈ' ہے؟ پرانی بحث نئے تناظر میں

سب سے پہلے، وہ اپنے تمام الجھے ہوئے خیالات کو ایک ڈائری میں لکھتے ہیں تاکہ جذباتی رکاوٹیں ختم ہو سکیں۔ اس کے بعد ان کاموں کو ٹریلو (Trello) بورڈ میں 'اہم' اور 'فوری' خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پھر گوگل کیلنڈر کے ذریعے ان کاموں کے لیے مخصوص وقت مقرر کیا جاتا ہے، اور دن کے اختتام پر کامیابی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس سسٹم نے نہ صرف ان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا بلکہ مارکیٹنگ کے خوف کو بھی ختم کر دیا۔ کاروبار سے وابستہ دیگر افراد نے اس تجربے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سسٹمز انسان کو خود سے بحث کرنے اور فیصلہ سازی کی تھکن سے بچاتے ہیں۔ اگر اگلا قدم پہلے سے متعین ہو تو کام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

تاہم، سسٹمز صرف ذاتی کاموں تک محدود نہیں ہوتے۔ ایک سائن اور پرنٹ شاپ کے مالک کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے ایک تین سال پرانے وفادار کسٹمر نے آہستہ آہستہ 2600 ڈالر کا ادھار چڑھایا اور پھر غائب ہو گیا۔ نہ صرف رقم ڈوبی بلکہ اس نے دکان کے خلاف ایک منفی انٹرنیٹ ریویو بھی لکھ دیا کہ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پیسے مانگتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاروباری سسٹمز میں ڈھیل دینا اور جذبات کی بنیاد پر ادھار دینا ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اگر دکان کا کریڈٹ سسٹم سخت ہوتا تو یہ بڑا نقصان نہ ہوتا۔

کاروباری دنیا کی اس تلخ سچائی اور سمارٹ سسٹمز کی تفصیلی بحث پر ہمارے پوڈکاسٹ کے ہوسٹس نے مزید گہرا تجزیہ کیا ہے۔

0:00
0:00
Link copied ✓