نوکریوں کی لائن میں 75 فیصد ماسٹرز ہولڈرز: تعلیم یا ویزا حاصل کرنے کا نیا شارٹ کٹ؟

نوکریوں کی لائن میں 75 فیصد ماسٹرز ہولڈرز: تعلیم یا ویزا حاصل کرنے کا نیا شارٹ کٹ؟ · Avonetics
نوکریوں کی مسابقتی دنیا میں ایک نئے اور سنسنی خیز انکشاف نے کارپوریٹ ماہرین اور ملازمت کے جویا افراد کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر آپ آج کے دور میں کسی اچھی کارپوریٹ یا ٹیکنالوجی کمپنی میں نوکری کی درخواست دینے جا رہے ہیں، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کے مقابلے میں آنے والے 75 فیصد افراد کے پاس ماسٹرز کی ڈگری ہو۔
یہ انکشاف ایک حالیہ جائزہ کے بعد سامنے آیا، جہاں جاب پورٹلز پر دیکھا گیا کہ زیادہ تر آسامیوں کے لیے درخواست دینے والوں میں تین چوتھائی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ یعنی ماسٹرز ڈگری ہولڈرز کی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ صورتحال ان ملازمتوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے جہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ کمپنی کسی قسم کی ویزا اسپانسرشپ فراہم نہیں کرے گی۔
Read nextUHC کی 'کیریئر تباہی': ایک گریجویٹ کا ہولناک تجربہ جو آپ کو دفتری وعدوں پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دے گا!
اس صورتحال نے کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ آخر کارپوریٹ اور ٹیک کے شعبے میں، جہاں عملی صلاحیتوں کو تعلیم پر ترجیح دی جاتی تھی، اچانک ماسٹرز ڈگری کی اتنی بھرمار کیسے ہو گئی؟
ایک جائزہ نگار کے مطابق، اس کی سب سے بڑی وجہ غیر ملکی امیدواروں کی جانب سے ویزا اور قانونی قیام حاصل کرنے کی جدوجہد ہے۔ ایک تبصرہ نگار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کسی عام یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنا دراصل پے ٹو ون ویزا کا ایک آسان راستہ بن چکا ہے۔" بہت سے غیر ملکی طالب علم ویزا کی لاٹری میں شامل ہونے اور ملک میں رہنے کی مدت بڑھانے کے لیے ماسٹرز پروگرامز کا سہارا لیتے ہیں، خواہ اس کے لیے انہیں بھاری قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔
دوسری طرف، کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ تمام درخواست گزاروں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا غلط ہوگا۔ ایک اور تبصرہ نگار نے اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ "آج کل بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کی مزید تعلیم کے اخراجات خود برداشت کر رہی ہیں۔ اس سخت جاب مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے جدید شعبوں میں ڈگری لینا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔"
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsاس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ لوگ اپنی پرانی یا غیر متعلقہ تعلیم کو چھپانے کے لیے اعلیٰ سطح کی نئی ڈگریوں کا سہارا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ایچ آر اور ریکروٹرز کے لیے اصل اور معیاری امیدواروں کا انتخاب کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
نوکری کی مارکیٹ میں اس ڈگری ریس نے جہاں مقامی امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں، وہیں ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والی ہزاروں درخواستوں میں سے حقیقی استعداد والے افراد کو تلاش کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ بن چکا ہے۔
کیا یہ رجحان تعلیم کی حقیقی قدر کو ظاہر کرتا ہے یا یہ محض کارپوریٹ نظام کی ایک خامی ہے؟ ہمارے شو کے میزبان پڈکاسٹ پر اس سنسنی خیز کہانی کی تمام باریکیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے پیچھے چھپے کڑوے سچ کو بے نقاب کرتے ہیں۔