2000 درخواستیں، ماسٹرز کی ڈگری اور صفر جواب: کیا کارپوریٹ جاب مارکیٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے؟

اعلیٰ تعلیم اور ہزاروں روپے لٹانے کے بعد بھی بے روزگار نوجوان نے کارپوریٹ دنیا کا تلخ سچ بے نقاب کر دیا۔
Urdu

2000 درخواستیں، ماسٹرز کی ڈگری اور صفر جواب: کیا کارپوریٹ جاب مارکیٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے؟ · Avonetics

🎧 Listen to this episode
Plays on Spotify · Open on Spotify ↗
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

آج کی کارپوریٹ دنیا میں اعلیٰ تعلیم، بہترین ڈگری اور محنت کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید جاب مارکیٹ نے اس مفروضے کو دھول میں ملا دیا ہے۔ ایک نوکر پیشہ نوجوان کی دردناک داستان نے اس وقت کارپوریٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے جب اس نے انکشاف کیا کہ دو ہزار سے زائد جاب ایپلیکیشنز بھیجنے کے باوجود اسے ایک بھی انٹرویو کی افر نہیں ملی۔

متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے ماحولیاتی سائنس میں بی ایس اور ایم ایس کی ڈگریاں حاصل کیں۔ لیکن جب اس کا شعبہ معاشی بحران کا شکار ہوا تو اس نے دوسرے شعبوں میں جانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ہزاروں روپے خرچ کر کے پیشہ ورانہ ماہرین سے اپنے ریزومے اور کور لیٹر بنوائے، انٹرویو کوچنگ لی اور سابقہ ساتھیوں سے مشاورت بھی کی، لیکن نتائج صفر رہے۔

Read nextجب دفتری لنچ بن جائے اذیت: معمر ساتھی کے اصرار سے جان چھڑانے کا فن

"میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اور رقم یونیورسٹی کی تعلیم پر لٹا دی، لیکن آج مجھے یہ ڈگریاں ایک فضول اور مہنگا سودا معلوم ہوتی ہیں،" متاثرہ شخص نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ "اب میرے پاس بچت ختم ہو رہی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کس مقام پر ہار مان لوں۔"

اس صورتحال نے کارپوریٹ دنیا کے محنت کشوں کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس بات سے متفق ہیں کہ معاشی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ایک مبصر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تین ماہ پہلے ہی نوکری کی تلاش چھوڑ دی تھی کیونکہ اس کوشش کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ وہ ڈھائی سال سے بے روزگار ہے اور چار راؤنڈز کے انٹرویو کے بعد بھی اسے ایک معمولی پوزیشن سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ وہ زیادہ اہل ہے۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

دوسری جانب، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کوشش چھوڑنا کوئی حل نہیں ہے۔ ایک تجزیہ کار نے لکھا کہ ہار ماننا صرف ان لوگوں کے بس میں ہے جن کے پاس امیر والدین کی دولت موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی مالی سہارا نہیں تو آپ کو لڑتے رہنا ہوگا، چاہے اس کے لیے آپ کو بالکل غیر روایتی یا عجیب و غریب ذرائع ہی کیوں نہ اپنانے پڑیں۔

یہ کہانی محض ایک فرد کی نہیں بلکہ لاکھوں ان پڑھے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے اس المیے کو ظاہر کرتی ہے جہاں ڈگریاں دیواروں کی زینت بن چکی ہیں اور کارپوریٹ سسٹمز امیدواروں کا استحصال کر رہے ہیں۔

اس سنگین اور تلخ موضوع کی مکمل تفصیلات اور شو کے میزبانوں کی آپسی تکرار اور حتمی فیصلہ سننے کے لیے 'دفتری راز' پوڈکاسٹ کی یہ قسط ضرور سنیں۔

0:00
0:00
Link copied ✓