Avoneticsنیا موڑ › story

20 سال کی عمر، والد کا سایہ اٹھنے کا صدمہ اور ڈوم سکرولنگ کا جال: سستی کو شکست دینے کی سچی کہانی

کمپیوٹر سائنس کا طالب علم کس طرح سوشل میڈیا کی لت اور خاندانی ذمہ داریوں کے بوجھ سے نبرد آزما ہو کر اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Urdu

20 سال کی عمر، والد کا سایہ اٹھنے کا صدمہ اور ڈوم سکرولنگ کا جال: سستی کو شکست دینے کی سچی کہانی · Avonetics

🎧 Podcast episode
Coming soon — عثمان & ثناء are taking this one into the studio.
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

زندگی کے بیسویں سال میں داخل ہونا اکثر نوجوانوں کے لیے امیدوں اور خوابوں کا مرحلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ دور شدید ذہنی تناؤ اور خاندانی بوجھ کا پیغام لے کر آتا ہے۔ ایک نوجوان طالب علم نے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح وہ والد کے اچانک انتقال کے بعد خاندانی ذمہ داریوں کے تلے دب گیا ہے اور دوسری طرف ڈوم سکرولنگ کی لت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔

کمپیوٹر سائنس کے اس پہلے سال کے طالب علم نے گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی صحت بنانے، ذہنی سکون حاصل کرنے اور مالی طور پر خود کفیل ہونے کے لیے نئے ہنر سیکھنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم، ہر رات 'کل سے شروعات کرنے' کے لامتناہی وعدے اور دن بھر فون کی سکرین پر وقت کے زیاں نے اسے سخت پچھتاوے اور الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔

Read nextباورچی خانے کے راز سے سفر کی بچت تک: دو ذہین ٹوٹکے جو آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں

اس صورتحال پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے تجربات اور مشورے سانجھے کیے ہیں۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ 'جب آپ کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہوتا تو آپ کا ذہن آسان ترین ڈوپامائن کی طرف بھاگتا ہے، جو کہ سمارٹ فون ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ۳ سے ۵ نہایت چھوٹے اور آسان کام منتخب کیے جائیں اور انہیں ہر قیمت پر پورا کیا جائے۔'

دوسری جانب، کچھ لوگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ موبائل فون سے تمام سوشل میڈیا ایپس کو ڈیلیٹ کر دینا ہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو سکرولنگ کی دلدل سے باہر نکالتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو صرف لیپ ٹاپ پر ویب ورژن استعمال کیا جائے تاکہ غیر ضروری استعمال سے بچا جا سکے۔ ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ 'کل کیا کرنا ہے، اس کا فیصلہ آج رات ہی کر لیں، کیونکہ صبح اٹھ کر فیصلہ کرنے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے وہی آپ کی ہمت توڑ دیتا ہے۔'

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

تاہم، ایک بڑا طبقہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ۲۰ سال کی عمر میں والد کی وفات کا صدمہ جھیلنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض ٹائم ٹیبل بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک نوجوان اپنے اندرونی غم کو قبول نہ کرے اور خود پر بے جا دباؤ نہ ڈالے۔ جذباتی صحت کی بحالی ہی حقیقی نظم و ضبط کی پہلی سیڑھی ہے۔

کیا عمل کی طاقت جذباتی زخموں کو بھر سکتی ہے یا غم کی قبولیت ہی نظم و ضبط کا راستہ کھولتی ہے؟ ہمارے شو 'نیا موڑ' کے میزبان اس ڈرامائی اور سبق آموز کہانی کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔

0:00
0:00
Link copied ✓