قوت ارادی کی کمی یا نیند کی خرابی؟ جانیے عادات کو دوبارہ زندہ کرنے کا طریقہ

قوت ارادی کی کمی یا نیند کی خرابی؟ جانیے عادات کو دوبارہ زندہ کرنے کا طریقہ · Avonetics
زندگی میں اکثر ایسا وقت آتا ہے جب انسان کا بنا بنایا نظام یکلخت بکھرنے لگتا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ ایک سرکاری ملازم کے ساتھ پیش آیا، جو ماضی میں انتہائی متحرک اور منظم زندگی گزار رہا تھا۔ جیم جانا، پہاڑوں پر ہائیکنگ کرنا اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اس کا روزمرہ کا معمول تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قوت ارادی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔
حالت یہ ہو گئی کہ یوگا اور ڈانس کی ہفتہ وار کلاسز بھی ادھوری چھوٹنے لگیں۔ رات کا شاور، جلد کی دیکھ بھال اور سونے سے پہلے ڈائری لکھنے یا کتاب پڑھنے کی عادات بالکل ختم ہو گئیں۔ نیند کا وقت بگڑ گیا اور زندگی سے تحرک غائب ہو گیا۔ یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ آج کے دور کے ان تمام نوجوانوں کی ہے جو مسلسل تھکاوٹ اور سستی کا شکار ہیں۔
Read nextبزرگسالی کی تنہائی اور خود نگری: کیا ہم دوست بنانا اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا بھول چکے ہیں؟
اس صورتحال پر مختلف ماہرانہ آرائیں سامنے آئی ہیں۔ ایک تبصرہ نگار نے نشاندہی کی کہ یہ قوت ارادی کا زوال نہیں بلکہ بیرونی احتساب کی کمی ہے۔ وہ تمام عادات جو ماضی میں برقرار رہیں، ان میں دوسرے لوگ یا مخصوص وقت شامل تھا۔ جبکہ موجودہ عادات تنہائی کی ہیں، جن کا کوئی گواہ نہیں، اس لیے وہ جلدی ختم ہو گئیں۔ اس کے علاوہ نیند کا بگڑنا تمام مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
دوسری جانب، ایک اور رائے یہ ہے کہ انسان کو ایک ساتھ بہت سے کام شروع کرنے کے بجائے 'مائیکرو ہیبٹس' یعنی انتہائی چھوٹے اقدامات اپنانے چاہئیں۔ اگر آپ کتاب نہیں پڑھ پا رہے تو صرف ایک لفظ پڑھنے کا ہدف رکھیں۔ جیم جانے کا دل نہیں کر رہا تو صرف جوتے پہننے تک محدود رہیں۔ تدریجی بہتری ہی واقعی پائیدار ہوتی ہے۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsپیشہ ورانہ زندگی میں بھی ایسی ہی چھوٹی عادات بڑا فرق پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ای میل بھیجنے سے پہلے اسے اونچی آواز میں پڑھنے کی صرف 45 سیکنڈ کی عادت نے ایک شخص کو نوکری سے نکالے جانے سے بچا لیا۔ چھوٹی عادات بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن ان کے نتائج بے شمار ہوتے ہیں۔
ہمارے شو کے میزبان پوڈکاسٹ کی تازہ قسط میں اس کہانی کی گہرائی میں اتر کر اس کا مکمل تجزیہ کر رہے ہیں۔