پیزا کی ضد یا معاشی استحصال؟ جب پھپھو نے بھائی کی بلا معاوضہ دیکھ بھال سے انکار کر دیا

پیزا کی ضد یا معاشی استحصال؟ جب پھپھو نے بھائی کی بلا معاوضہ دیکھ بھال سے انکار کر دیا · Avonetics
خاندانی تعلقات میں محبت اور قربانی کی ایک حد ہوتی ہے، لیکن جب یہ قربانی آپ کی جیب اور سکون پر بوجھ بن جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک دردناک کہانی نے خاندانی رشتوں اور بچوں کی پرورش کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک 32 سالہ خاتون، جو ایک مستقل ملازمت کرتی ہیں، پچھلے تین سالوں سے اپنے بھائی کے چھ سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ ہر جمعے کی دوپہر سے لے کر اتوار کی رات تک اور تمام تعطیلات میں بچہ انہی کے پاس رہتا ہے۔ اس تمام محنت، سفری اخراجات اور بچے کی خوراک کے بدلے انہیں ماہانہ صرف دو سو ڈالر ملتے ہیں۔ اگرچہ ابتدا میں یہ ایک خاندانی امداد کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بھاری ذمہ داری بن گیا۔
Read nextبچوں کے میوزیم میں باتھ روم کا تنازع: ماں کی مجبوری یا معذور خاتون کا حق؟
معاملہ اس وقت خراب ہوا جب بچے نے کھانے میں شدید نخرے دکھانا شروع کر دیے۔ بچے کو ڈومینو کے چیز پیزا کی عادت پڑ گئی اور اس نے باقی تمام کھانے رد کر دیے۔ ایک دن، جب خاتون کے پاس پیزا خریدنے کے پیسے ختم ہو گئے، تو انہوں نے بچے کو پہلے سے تیار شدہ چکن نگٹس اور فرائز پیش کیے۔ اس پر بچے نے چیخنا اور روئنا شروع کر دیا۔ خاتون نے پیزا کی فرمائش ماننے سے انکار کر دیا اور بچے کو روتے رہنے دیا تاکہ وہ کھانے کی قدر سیکھ سکے۔ بالآخر بھوک لگنے پر بچے نے نگٹس کھا لیے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ شام کو بچے کے والد یعنی خاتون کے بھائی نے فون کر کے شدید غصے کا اظہار کیا۔ اس نے اپنی بہن پر الزام لگایا کہ اس نے بچے کو گھنٹوں بھوکا رکھا اور پیزا نہیں خرید کر دیا۔ جب بہن نے بجٹ کی کمی اور مہنگائی کا ذکر کیا، تو بھائی نے کہا کہ یہ اس کی ناقص بجٹنگ کا قصور ہے اور وہ رقم میں ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں کرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ رشتوں کو کاروبار نہیں بنانا چاہیے۔
اس غیر منصفانہ رویے پر بہن نے صاف کہہ دیا کہ اگر بھائی کو اس کی خدمات پسند نہیں تو وہ کسی اور کو دایہ رکھ لے۔ اس کے بعد سے پورے خاندان میں خاتون کو ایک سنگدل پھپھو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsاس کہانی پر لوگوں کی آراء میں شدید تقسیم دیکھی گئی۔ ایک مبصر نے کہا کہ "دو سو ڈالر میں پورے مہینے کے اختتامِ ہفتہ پر بچے کی دیکھ بھال کروانا اور اوپر سے نخرے اٹھانا شدید استحصال ہے۔ بھائی کو شرم آنی چاہیے"۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ "والدین اپنے فارغ وقت میں آرام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اپنی بہن کی زندگی اجیرن کر رہے ہیں"۔
دوسری طرف، کچھ لوگوں نے خاندانی حکمتِ عملی پر بات کی۔ ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ "پھپھو کو بچے کے ساتھ تھوڑی اور نرمی برتنی چاہیے تھی، لیکن اصل غلطی بھائی کی ہے جو اپنی بہن کو نوکرانی سمجھ رہا ہے"۔
کیا پھپھو کا فیصلہ درست تھا یا انہیں بھائی کی خاطر خاموشی سے پیزا خریدتے رہنا چاہیے تھا؟ اس پر جوشیلی بحث کا مکمل احوال 'سلسلے' پوڈکاسٹ کی تازہ قسط میں سنیں۔