"وہ مجھے روز چھوتا ہے اور پروفیسر کہتے ہیں کہ وہ آٹسٹک ہے!" — یونیورسٹی کی طالبہ کی سنسنی خیز آپ بیتی

"وہ مجھے روز چھوتا ہے اور پروفیسر کہتے ہیں کہ وہ آٹسٹک ہے!" — یونیورسٹی کی طالبہ کی سنسنی خیز آپ بیتی · Avonetics
تعلیمی ادارے جہاں علم، تہذیب اور تحفظ کے گہوارے سمجھے جاتے ہیں، وہاں بعض اوقات ایسی داستانیں جنم لیتی ہیں جو انسان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ حال ہی میں ایک یونیورسٹی طالبہ کی دردناک کہانی منظر عام پر آئی ہے جس نے تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط، اخلاقیات اور طالبات کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ طالبہ کے مطابق، اس کی یونیورسٹی کا ایک طالب علم، جو شدید آٹزم کا شکار ہے، پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل اس کا پیچھا کر رہا ہے اور اسے شدید ہراساں کر رہا ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد بار اس لڑکے کو بہت واضح اور سخت الفاظ میں منع کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کسی اور کے ساتھ رشتے میں ہے، لیکن اس لڑکے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب بھی اسے روکا جاتا ہے، وہ آپے سے باہر ہو کر چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے اور انتہائی خوفناک باتیں کرنے لگتا ہے۔
Read nextسابق بوائے فرینڈ اور آٹھ سال کی دوستی: جب شک کے سانپ نے ایک گہرے رشتے کو نگل لیا
معاملہ اس وقت انتہائی سنگین اور خطرے کی حد تک پہنچ گیا جب حال ہی میں کلاس سے نکلنے کے بعد اس لڑکے نے پیچھے سے آ کر طالبہ کی کمر میں اپنا بازو ڈال دیا۔ اچانک ہونے والے اس غیر متوقع جسمانی رابطے پر طالبہ نے گھبرا کر اپنے دفاع میں اسے پیچھے دھکیلا، جس پر اس لڑکے نے پوری یونیورسٹی کے سامنے چیخ و پکار کر کے ہنگامہ برپا کر دیا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ اکثر اس کے بالوں کو چھونے کی کوشش بھی کرتا ہے، جس سے وہ شدید خوف کا شکار ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب اس طالبہ نے اپنی ایک لیڈی پروفیسر سے اس بات کی شکایت کی، تو پروفیسر نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ "وہ آٹسٹک ہے، اسے نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہا ہے۔" اس لاپروائی نے طالبہ کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ بیماری یا معذوری کی آڑ میں اس کے ذاتی تحفظ اور جسمانی حدود کو علانیہ پامال کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے ایک شدید اور تلخ بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ "آٹزم ہونا کسی کو بھی دوسرے کے جسم کو چھونے یا ہراساں کرنے کا حق نہیں دیتا۔ اگر وہ یونیورسٹی میں پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ 'نہ' کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔" ایک اور شخص نے دلیل دی کہ "یہ محض آٹزم کی کوئی نادان حرکت نہیں بلکہ سیدھی سیدھی جنسی ہراسانی ہے اور طالبہ کو فوراً اعلیٰ حکام یا سیکیورٹی سیل کو رپورٹ کرنا چاہیے۔"
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsخود آٹسٹک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹسٹک افراد حدود اور اصولوں کو بخوبی سمجھتے ہیں، اور اس قسم کی حرکات کو بیماری کے نام پر معاف کرنا پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ انتظامیہ اور اساتذہ کی اس مجرمانہ خاموشی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
طالبہ اس وقت اس خوف میں مبتلا ہے کہ اگر وہ انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت لے کر جاتی ہے تو لوگ اسے بے حس یا ظالم سمجھیں گے۔ لیکن اس کی تعلیمی زندگی اور ذاتی سکون مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔
ہمارے پوڈکاسٹ 'سلسلے' کی تازہ قسط میں عائشہ اور حسن اس دردناک کہانی کے تمام اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحفظ اور اخلاقیات کی اس جنگ میں حتمی سچائی کیا ہے۔