دو مہینے کی دلہن، ڈگری ڈاکٹر کی مگر درجہ ملازمہ کا: ساس کے احکامات نے نئی شادی ہلا کر رکھ دی

دو مہینے کی دلہن، ڈگری ڈاکٹر کی مگر درجہ ملازمہ کا: ساس کے احکامات نے نئی شادی ہلا کر رکھ دی · Avonetics
شادی کو صرف دو مہینے ہوئے ہیں، مگر ایک چونتیس سالہ خاتون ڈاکٹر اپنی کئی شامیں اپنے ہی گھر کی دہلیز کے باہر گزار رہی ہیں — اندر جانے کی ہمت جمع کرتے ہوئے۔
کہانی ایک سمجھدار سے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ وہ اور ان کے پینتیس سالہ شوہر، دونوں ڈاکٹر، شادی سے پہلے طے کرتے ہیں کہ ابتدا میں شوہر کے والدین کے ساتھ رہیں گے تاکہ اخراجات بچیں اور نئی زندگی کی بنیاد مضبوط ہو۔
Read nextبچوں کے میوزیم میں باتھ روم کا تنازع: ماں کی مجبوری یا معذور خاتون کا حق؟
مگر چند ہی ہفتوں میں تصویر بدل جاتی ہے۔ ساس بہو کو باقاعدہ بٹھا کر ہدایات جاری کرتی ہیں: شوہر کا ناشتہ خود بناؤ، اس کے کپڑے استری کر کے تیار رکھو، آن لائن کھانا منگوانا منع ہے، اور ہر کھانا گھر کا پکا ہوا ہونا چاہیے۔
یہ سب اس جوڑے کے لیے تقریباً ناممکن ہے جو صبح سویرے ہسپتال نکلتا ہے اور اکثر رات گئے لوٹتا ہے۔ دونوں مل کر ملازمہ رکھنے کی تجویز دیتے ہیں۔ جواب صاف انکار ہے۔
پھر چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے جھگڑوں کا روپ دھارنے لگتی ہیں۔ ایک شام بہو چار کے بجائے دو برگر بنا دیتی ہے تو گھر میں ناراضگی پھیل جاتی ہے۔
اور پھر پلیٹوں والا واقعہ ہوتا ہے۔ بہو بازار سے دو خوبصورت پلیٹیں خرید لاتی ہے — بس دل خوش کرنے کو۔ سسرال والے برا مان جاتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ وہ شاید سمجھتی ہے کہ انہیں کوئی بیماری ہے، اسی لیے الگ برتن لائی ہے۔
سب سے تکلیف دہ کردار مگر وہ ہے جو خاموش ہے۔ شوہر اپنے والدین سے بے حد محبت کرتا ہے اور الگ گھر لینے پر تیار نہیں۔ بیوی کے بقول وہ بحیثیت شوہر بہترین ہے، مگر شادی کے صرف دو مہینے بعد وہ خود اداسی اور ڈپریشن میں ڈوب چکی ہے، گھر جانے سے ڈرتی ہے، اور کبھی کبھی دو دو گھنٹے باہر بیٹھی رہتی ہے۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsجب یہ کہانی سامنے آتی ہے تو رائے عامہ دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو فوری قدم کے حامی ہیں۔ ایک تبصرہ نگار نے دو ٹوک کہا کہ اس کے ساتھ یا اس کے بغیر، گھر سے نکل جاؤ؛ اگر وہ محبت کرتا ہے تو ساتھ آئے گا۔ کسی اور نے لکھا کہ یہ عورت اپنے ہی گھر میں قیدی بن چکی ہے۔ ایک اور نے چبھتا ہوا سوال اٹھایا کہ وہ یا تو بیوی سے شادی شدہ ہے یا اپنی ماں سے — اور اگر اسے کھانا پکانے اور استری کرنے والی چاہیے تھی تو کسی اور سے شادی کرتا۔ ایک تبصرہ نگار نے حل بھی بتایا: فیصلہ شوہر کی جھولی میں ڈال دو کہ وہ اپنی زندگی کی کس عورت کو خوش کرنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف وہ آوازیں ہیں جو ثقافتی تناظر کی بات کرتی ہیں۔ ایک تبصرہ نگار نے دلیل دی کہ جن گھرانوں میں بہو سے روایتی طور پر گھر سنبھالنے کی توقع ہوتی ہے، وہاں مغربی طرز کا فوری بغاوت والا مشورہ الٹا نقصان کر سکتا ہے؛ نکلنا ضروری ہے مگر راستہ نرم اور سوچا سمجھا ہونا چاہیے۔ کسی اور نے یاد دلایا کہ جادوئی الفاظ کوئی نہیں ہوتے — پہلا قدم شوہر سے کھری، بے لاگ گفتگو ہے، اور اگر وہ سب جان کر بھی نہ بدلے تو یہی خاموشی خود ایک جواب ہے۔
سوال بہرحال اپنی جگہ کھڑا ہے: کیا اس نئی دلہن کو آج ہی الگ گھر کا اعلان کر دینا چاہیے، یا صبر کے ساتھ ایک مرحلہ وار منصوبہ بنانا چاہیے جس کی آخری منزل بہرحال اپنا الگ آشیانہ ہو؟
عائشہ اور حسن اس پوری کہانی کی پرتیں «سلسلے» کی تازہ قسط میں کھولتے ہیں — دونوں فریقوں کے دلائل پر گرما گرم بحث کے بعد ایک واضح فیصلہ بھی سناتے ہیں۔