Avoneticsچٹخارہ › story

ریستوران کی نئی پالیسی پر ہنگامہ: کیا مالک کا ویٹرز کی ٹپ سے حصہ لینا جائز ہے؟

ایک خاندانی ریستوران کے مالک نے بار بیک کی ڈیوٹی خود سنبھال کر ویٹرز پر 10 فیصد ٹپ کا ٹیکس لگا دیا، جس سے ملازمین میں شدید تشویش پھیل گئی۔
Urdu

ریستوران کی نئی پالیسی پر ہنگامہ: کیا مالک کا ویٹرز کی ٹپ سے حصہ لینا جائز ہے؟ · Avonetics

🎧 Listen to this episode
Plays on Spotify · Open on Spotify ↗
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

ریستوران کی صنعت میں کام کرنے والے ویٹرز کی زندگی ویسے ہی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ دن بھر پاؤں پر کھڑے رہنا، نخرے باز گاہکوں کو سنبھالنا اور کم سے کم بنیادی تنخواہ پر گزارا کرنا اس کام کا حصہ ہے۔ لیکن کیا ہو جب ریستوران کا مالک خود ویٹرز کی محنت سے حاصل کی گئی ٹپ میں سے حصہ مانگنے لگے؟

حال ہی میں ایک خاندانی ریستوران میں ایسا ہی عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا جہاں انتظامیہ نے اچانک ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیا۔ اس پالیسی کے مطابق ہر ویٹر کو اپنی شفٹ کے اختتام پر الکحل اور مشروبات کی کل فروخت کا 10 فیصد حصہ بار ٹینڈر کو دینا لازمی قرار دیا گیا۔ اور اگر کسی کے پاس کیش نہ ہو تو یہ رقم اس کی تنخواہ سے کاٹ لی جائے گی۔

Read nextکیک کو چائے کے کپ میں! ریستوران کے وہ عجیب آرڈر جنہوں نے عملے کو ہلا کر رکھ دیا

اصل کہانی تب کھل کر سامنے آئی جب پتہ چلا کہ بار پر بطور بار بیک کام کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ خود ریستوران کا مالک اور اس کا منیجر ہے۔ یعنی مالک خود کو بار بیک کے طور پر شفٹ میں شامل کرتا ہے اور ویٹرز کی ٹپ کا 10 فیصد حصہ سیدھا اپنی جیب میں ڈالتا ہے۔

اس واقعے نے ریستوران کی دنیا اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک تبصرہ نگار نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر چوری اور غیر قانونی حرکت ہے۔ مالک کو ریستوران کے کل منافع کا 100 فیصد ملتا ہے، پھر بھی وہ غریب ویٹرز کے پیسوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ لیبر قوانین کے مطابق کوئی بھی سپروائزر یا مالک ملازمین کی ٹپ پول سے پیسہ نہیں لے سکتا۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

دوسری طرف کچھ لوگوں نے اس معاملے کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ اگر مالک واقعی رات بھر بار کے پیچھے کھڑا ہو کر خود مشروبات بنا رہا ہے اور برتن دھو رہا ہے، تو وہ شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اس محنت کا معاوضہ لے رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسے لیبر قوانین کی آگاہی ہی نہ ہو۔

تاہم زیادہ تر ماہرین اور تجربے کار ویٹرز کا ماننا ہے کہ تنخواہ سے جبری کٹوتی کی دھمکی دینا ایک شدید جرم ہے۔ ایسے حالات میں ملازمین کو خاموشی سے ثبوت جمع کرنے چاہئیں اور لیبر بورڈ کو اطلاع دینی چاہیے۔

کیا یہ صرف ایک مالک کی ناواقفیت ہے یا ملازمین کی محنت پر کھلم کھلا ڈاکہ؟ ہمارے پوڈکاسٹ 'چٹخارہ' کے میزبانوں نے اس کہانی کی تمام پرتوں کو کھولا ہے اور اس پر ایک گرما گرم بحث کی ہے۔

0:00
0:00
Link copied ✓