تین سال تک بغیر انگلی ہلائے لاکھوں روپے کی تنخواہ: جب پائتھون کوڈ نے آئی ٹی سپورٹ کی پوری نوکری سنبھال لی!

ایک گھنٹے کے کام کو چند سیکنڈ میں بدلنے والی سکرپٹ نے کمپنی کا سیکیورٹی آڈٹ ہوتے ہی بھانڈا پھوڑ دیا۔
Urdu

تین سال تک بغیر انگلی ہلائے لاکھوں روپے کی تنخواہ: جب پائتھون کوڈ نے آئی ٹی سپورٹ کی پوری نوکری سنبھال لی! · Avonetics

🎧 Listen to this episode
Closes with the original song “سات سمندر، ایک بہانہ”. · Plays on Spotify · Open on Spotify ↗
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر روز نئے ڈرامے جنم لیتے ہیں، لیکن اس بار معاملہ ایک ایسے آئی ٹی ماہر کا ہے جس نے سستی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ذہانت کی نئی مثال قائم کر دی۔ ایک نجی کلاؤڈ کمپنی کا جونیئر سسٹم ایڈمنسٹریٹر مسلسل تین سال تک بغیر کوئی ڈیوٹی کیے مکمل تنخواہ وصول کرتا رہا، اور کمپنی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اس ملازم نے اپنی روزمرہ کی سخت اور بورنگ ڈیوٹی سے تنگ آ کر 12 مختلف پائتھون سکرپٹس تیار کیں۔ یہ سکرپٹس کسٹمرز کی ای میلز کا جواب دینے، سرورز کی نگرانی کرنے اور ہر چند منٹ بعد ماؤس پوائنٹر کو ہلانے کا کام خودکار طریقے سے کرتی تھیں۔ ملازم صبح سویرے لیپ ٹاپ آن کر کے سکرپٹ چلا دیتا اور پھر پورا دن جم میں گزارتا یا گھر پر ویڈیو گیمز کھیلتا۔

Read nextآئی ٹی کا میدان جنگ: جب آپ کا ماؤس ایک بڑا مسئلہ بن گیا!

حیران کن طور پر، کمپنی کے ریکارڈ میں اس ملازم کی کارکردگی سب سے بہترین جا رہی تھی۔ اس کے جواب دینے کی رفتار باقی تمام ملازمین سے تیز تھی جس کی بنا پر اسے ایوارڈز بھی ملے۔ لیکن یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب کمپنی نے بیرونی سائبر سیکیورٹی آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا۔

آڈیٹرز نے نیٹ ورک لاگز کی جانچ کے دوران دیکھا کہ تمام کمانڈز ملی سیکنڈز کے وقفے سے ایک ہی رفتار پر جاری ہو رہی ہیں، جو انسان کے لیے ناممکن ہے۔ سیکیورٹی ٹیم نے پہلے سمجھا کہ سرورز پر ہیکرز کا حملہ ہوا ہے، لیکن تفتیش پر پتہ چلا کہ پورا سسٹم ایک مقامی پائتھون سکرپٹ سے چل رہا ہے۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

اس انکشاف پر سوشل میڈیا اور آئی ٹی فورمز پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ اگر ملازم کا کام سو فیصد ٹھیک ہو رہا تھا تو کمپنی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ اس نے سمارٹ ورک کیا۔ جبکہ ایک دوسرے صارف نے دلیل دی کہ کمپنی سے سچ چھپانا اور بغیر کام کیے تنخواہ لینا اخلاقی طور پر بالکل غلط ہے۔

کمپنی نے کارروائی کرتے ہوئے ملازم کو فوری طور پر نوکری سے نکال دیا ہے، مگر آٹومیشن اور ورک فرام ہوم کے اصولوں پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ٹیک تماشا کے ہوسٹس اس زبردست اور دلچسپ واقعہ کا ہر زاویے سے جائزہ لے رہے ہیں اور پوڈکاسٹ کی اس نئی قسط میں اس پر سیر حاصل گفتگو کر رہے ہیں۔

0:00
0:00
Link copied ✓