پانچ سال تک سو کر تنخواہ لینے والا آئی ٹی انجینئر: جب ایک چھوٹی سی غلطی نے اربوں کا راز فاش کر دیا!

پانچ سال تک سو کر تنخواہ لینے والا آئی ٹی انجینئر: جب ایک چھوٹی سی غلطی نے اربوں کا راز فاش کر دیا! · Avonetics
ٹیکنالوجی کی دنیا بھی عجیب و غریب داستانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن ایک آئی ٹی انجینئر نے کاہلی اور ذہانت کو ملا کر جو کارنامہ انجام دیا، اس نے کارپوریٹ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک سافٹ ویئر کمپنی کا سسٹم ایڈمنسٹریٹر مسلسل پانچ سال تک اپنے گھر بیٹھ کر پرتعیش زندگی گزارتا رہا، جبکہ اس کی جگہ ایک خفیہ بوٹ کمپنی کا سارا کام سنبھالتا رہا۔
یہ ڈرامائی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب مذکورہ انجینئر نے اپنی نوکری کے ابتدائی دنوں میں ہی تمام روٹین کے کاموں کو خودکار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے Python اور سکرپٹنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا پروگرام لکھا جو آنے والی تمام ای میلز، سرور کی خرابیوں اور صارف کے مسائل کو منٹوں میں حل کر دیتا تھا۔ کمپنی کو لگتا رہا کہ ان کا یہ ملازم دن رات محنت کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ویڈیو گیمز کھیلنے میں مصروف رہتا تھا۔
Read nextتین سال تک بغیر انگلی ہلائے لاکھوں روپے کی تنخواہ: جب پائتھون کوڈ نے آئی ٹی سپورٹ کی پوری نوکری سنبھال لی!
مستقل پانچ سال تک یہ کھیل بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہا۔ کمپنی اسے ہر ماہ مکمل تنخواہ دیتی رہی اور اس کی کارکردگی کو سراہتی رہی۔ لیکن پھر ایک ایسا دن آیا جس کا اس چالاک انجینئر نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔ کمپنی نے اپنے تمام پرانے سسٹمز کو ختم کر کے جدید کلاؤڈ نیٹ ورک پر شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔
ایک بیرونی سائبر سیکیورٹی آڈٹ ٹیم نے جب نیٹ ورک کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ سرورز پر تمام کام انسانی رفتار سے کہیں زیادہ تیز اور سیکنڈز کے حساب سے ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین نے جلد ہی اس خفیہ کوڈ کو ڈھونڈ نکالا جو اتنے سالوں سے خاموشی سے چل رہا تھا۔ کلاؤڈ مائیگریشن کے ساتھ ہی پرانی سکرپٹس نے کام کرنا بند کر دیا اور کمپنی کا پورا سسٹم اچانک بیٹھ گیا۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsاس واقعے کے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر ایک گرم جوش بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے اس انجینئر کو 'عبقری' اور 'آئی ٹی کا جادوگر' قرار دیا جنہوں نے اپنے کام کو اس قدر بہترین طریقے سے خودکار کیا۔ ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ اگر کام وقت پر ہو رہا تھا اور کمپنی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تو اس میں ملازم کا کیا قصور ہے؟ اس نے اپنے دماغ کا استعمال کیا۔
دوسری جانب، سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اور کمپنی کی انتظامیہ نے اسے ایک خوفناک سیکیورٹی خطرہ قرار دیا۔ ایک اور رائے کے مطابق، غیر تصدیق شدہ بوٹس کا استعمال کسی بھی وقت کمپنی کا ڈیٹا لیک کر سکتا تھا اور یہ ملازم کا کمپنی کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔
اس دلچسپ اور سبق آموز ڈرامے کے تمام تر خفیہ تکنیکی پہلوؤں اور اخلاقی بحث پر ہمارے میزبان 'ٹیک تماشا' کے تازہ ترین ایپیسوڈ میں کھل کر گفتگو کر رہے ہیں۔