آٹزم، تنہائی اور سستی کا عذاب: جب دنیا میں اپنے لیے کوئی جگہ نظر نہ آئے

آٹزم، تنہائی اور سستی کا عذاب: جب دنیا میں اپنے لیے کوئی جگہ نظر نہ آئے · Avonetics
Kids Digital Microscope STEM Toy
32GB CARD UNLOCKS PHOTOS AND VIDEO – Unlike limited built-in storage, the included memory card provides room for thousands of pictures or hours of video, so young explorers can doc…
See it →
دنیا میں جہاں پیداواری صلاحیت، کارپوریٹ کامیابی اور سوشل میڈیا کے الگورتھم کو ہی انسان کی قدر کا معیار مان لیا گیا ہو، وہاں ایک ایسا شخص جو صرف سچائی سے جینا چاہتا ہو، خود کو بالکل الگ تھلگ محسوس کرتا ہے۔ یہ کہانی ایک 26 سالہ آٹسٹک لڑکی کی ہے جو یہ مانتی ہے کہ اس دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ تین مختلف دوستوں کے گروپس سے نکالے جانے اور مسلسل دھوکے کھانے کے بعد، اس نے خود کو دنیا سے کاٹ لیا ہے۔
وہ معذوری الاؤنس پر زندگی بسر کر رہی ہے اور گزشتہ سات سالوں سے ڈپریشن اور ذہنی مسائل سے لڑ رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی کا لطف ہی نہیں اٹھا سکتی تو پھر وہ اپنا وقت کسی ایسی کارپوریشن کو کیوں دے جو اس کی پروا نہیں کرتی؟ وہ تصویریں بنانا چاہتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کی پیروی کرنا اسے اپنی ذات کے خلاف لگتا ہے۔ اس کی پارٹنر اس کی ہمت بڑھاتی ہے، لیکن وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ صرف ایک ہی جگہ پر جم کر رہ گئی ہے۔
Read nextباورچی خانے کے راز سے سفر کی بچت تک: دو ذہین ٹوٹکے جو آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں
اس کہانی پر لوگوں کے ردعمل بھی تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک شخص نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اقدار پر قائم رہنا ایک طاقت ہے، ناکامی نہیں۔ ہر شخص کو کارپوریٹ دوڑ کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف آرام کرنا بھی زندگی کا ایک مقصد ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ یہ محض سیکھی ہوئی بے بسی ہے، زندگی میں اگر جگہ نہ ملے تو اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے اور دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ معاشی جدوجہد ضروری ہے۔
12X25 Mini Pocket Binoculars for Adults
Equipped with 12x high power magnification, 25mm objective lens and 138yds/1094yds wide field of view. The best structure to help you look farther, see wider, get the sharp vision…
See it →
اسی طرح کی ایک اور کہانی ایک 21 سالہ بے روزگار نوجوان کی ہے جس کے پاس پورا دن فارغ ہوتا ہے لیکن وہ سستی اور کاہلی کی وجہ سے کچھ نہیں کر پاتا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے پروگرامنگ سیکھ کر نوکری حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکا۔ یہ دونوں کہانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ذہنی جمود اور مقصد کی کمی انسان کو معذور بنا دیتی ہے۔
کیا ہم اپنی شناخت اور اصولوں کو بچاتے ہوئے اس دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں؟ ہمارے شو کے میزبان پوڈکاسٹ پر اس موضوع کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں۔