آدھی رات کی بھوک اور اسکول کا بائیکاٹ: کیا والدین کا حد سے زیادہ لاڈ بچوں کو بگاڑ رہا ہے؟

آدھی رات کی بھوک اور اسکول کا بائیکاٹ: کیا والدین کا حد سے زیادہ لاڈ بچوں کو بگاڑ رہا ہے؟ · Avonetics
Amazon eGift Card
Amazon eGift Card · Home
See it →
گھر کا باورچی خانہ اکثر محبت اور پرورش کا مرکز مانا جاتا ہے، لیکن ایک پریشان حال ماں کے لیے یہ میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ ڈھائی سالہ بیٹے کی بھوک رات ہوتے ہی جاگ اٹھتی ہے اور وہ بستر پر لیٹ کر کھانے کے لیے مچلنے لگتا ہے۔ پورا دن جی بھر کر کھانے کے باوجود رات کی یہ طلب میاں بیوی کے درمیان تلخ تکرار کی بنیاد بن چکی ہے۔ باپ کا اصرار ہے کہ معدے کی تیزابیت اور اصولوں کی خاطر رات کو باورچی خانہ بند ہونا چاہیے، جبکہ ماں بھوکے بچے کو دودھ یا دلیہ دیے بغیر سو نہیں پاتی۔
ایک تبصرہ نگار نے ماں کے مؤقف کی پرزور تائید کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچے اکثر جسمانی نشوونما کے تیز رفتار دور سے گزر رہے ہوتے ہیں اور جب ان کا جسم خوراک مانگے تو انکار کرنا بے رحمی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سیب کا ٹکڑا یا ایک کیلا دینے سے نہ تو وقت برباد ہوتا ہے اور نہ ہی بچہ آدھی رات کو بھوک سے روتا ہوا اٹھتا ہے۔
Read nextکیا سچی کامیابی کیریئر ہے یا خاندان؟ ایک والد کی جدوجہد نے بحث چھیڑ دی
دوسری جانب ایک اور فرد نے انتباہ جاری کیا کہ بچوں کو ہر مانگ پر کھانا دینا دراصل بستر پر جانے سے بچنے کا ایک پرانا بہانہ بن جاتا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر دانتوں کی صفائی اور معدے کے آرام کو پس پشت ڈال دیا جائے تو چند ماہ بعد یہ عادت شدید طبی الجھنوں میں بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کی سختی اور کھانے کا آخری وقت مقرر کرنا ہی پائیدار حل ہے۔
ابھی یہ بحث تھمی نہیں تھی کہ اسی خاندان کی پانچ سالہ بیٹی اسکول میں تنہائی اور تضحیک کا شکار ہو گئی۔ نرم خو اور شائستہ بچی کو ہم جماعت لڑکیوں نے اپنے کھیل سے باہر نکال دیا اور وہ روزانہ دل شکستہ ہو کر لوٹنے لگی۔ ماں کا پرانا عزم تھا کہ بیٹی اپنے تنازعات خود سلجھائے، لیکن بچی کی اداسی دیکھ کر اس کا ضبط جواب دے رہا ہے۔
Uber eGift Card
24/7 safe pickups. Order from hundreds of local restaurants. Low-cost and premium options. Track delivery. Redemption: Online. No Returns and Refunds on Gift Cards
See it →
ایک مبصر نے جذباتی ہو کر رائے دی کہ پانچ سال کی ننھی جان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ چالاک بچوں کی سیاست کا توڑ نکال لے گی، غیر حقیقی ہے۔ والدین کو فوری طور پر اسکول پہنچ کر اساتذہ کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ بچی کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے رائے دہندہ نے انتباہ کیا کہ ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ یعنی ہر موڑ پر بچے کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہونا آگے چل کر بچوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
کیا جسمانی بھوک ہو یا سماجی دھتکار، والدین کی فوری مداخلت ضروری ہے یا خاموش صبر؟ ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبان اس تلخ داستان کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ایک فیصلہ کن منطق پیش کرتے ہیں۔