«روزانہ دو بار ڈے کیئر میں» — پانچ سالہ بیٹے کی پوٹی ٹریننگ ٹوٹ گئی، اور والدین ٹوٹنے کے قریب ہیں

تین سال کی عمر میں مکمل ٹرینڈ ہونے والا بچہ اچانک پیچھے چلا گیا، دوا نے صرف چند دن ساتھ دیا، اور اب دوسرے بچے اُس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
Urdu

«روزانہ دو بار ڈے کیئر میں» — پانچ سالہ بیٹے کی پوٹی ٹریننگ ٹوٹ گئی، اور والدین ٹوٹنے کے قریب ہیں · Avonetics

🎧 Podcast episode
Coming soon — عمر & سعدیہ are taking this one into the studio.
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

جرمنی کے ایک گھر میں ایک تینتیس سالہ باپ اپنی بے بسی لفظوں میں سمیٹ رہا ہے۔ اُس کے پاس کوئی ڈرامائی کہانی نہیں — بس ایک پانچ سالہ بیٹا ہے، ایک دو سالہ چھوٹا بھائی ہے، اور ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر روز، دن میں کئی بار، اُن کے گھر کا سکون توڑ دیتا ہے۔

کہانی کا آغاز بہت خوشگوار تھا۔ بچہ صرف دو سال کا تھا جب اُس نے خود پوٹی میں دلچسپی دکھائی۔ تین سال کا ہوا تو اُس نے پیمپر پہننے سے صاف انکار کر دیا۔ چند مشکل مہینے گزرے، والدین نے حوصلہ دیا، اور بچہ سنبھل گیا۔

Read nextسوتیلی بیٹی کے کمرے میں شوہر کی پہلی شادی کی تصویر: محبت یا حد بندی؟

رات کے لیے اُس نے خود ہی پیمپر پینٹ رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ نیند سے اٹھ کر بیت الخلا جانا اُس کے لیے مشکل تھا۔ آج بھی وہ رات کو وہی پہنتا ہے، اور والدین کو اس پر کبھی اعتراض نہیں رہا۔

چار سال کی عمر تک دن کا معاملہ مکمل طور پر قابو میں تھا۔ بچہ خود اٹھ کر جاتا، بغیر یاد دہانی کے۔ کبھی کبھار کوئی حادثہ ہو جاتا، زیادہ تر پیشاب کا۔ یہ کسی کے لیے پریشانی کی بات نہیں تھی۔

پھر پچھلے ایک سال میں سب کچھ الٹ گیا۔

بچہ دن میں پاخانہ کپڑوں میں کرنے لگا۔ پہلے ہفتے میں ایک دو بار۔ پھر زیادہ۔ اور اب یہ روز کا معمول ہے۔ باپ کہتا ہے کہ جب وہ بیٹے سے پوچھتا ہے، تو ہر بار وہی جواب ملتا ہے: «مجھے کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔»

والدین نے ہر ترکیب آزمائی ہے۔ ٹائمر لگائے تاکہ وقفے وقفے سے بیت الخلا جانا یاد رہے۔ تھوڑی سختی بھی برتی اور سمجھایا کہ بیت الخلا جانا کپڑے بدلنے اور صفائی سے کہیں آسان کام ہے۔ اب ہر بڑے کھانے کے بعد ایک لمبا وقفہ ہوتا ہے، جس میں ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھی جاتی ہیں تاکہ بچہ آرام سے بیٹھا رہے۔

ہر طریقہ کچھ دن کام کرتا ہے۔ اور پھر سب واپس وہیں آ جاتا ہے۔

بچوں کے ڈاکٹر نے موویکول پاؤڈر تجویز کیا، جو بچہ اب روزانہ لیتا ہے۔ ڈاکٹر کا خیال تھا کہ اندر جماؤ یا قبض ہو سکتی ہے، اور دوا کو کافی عرصے تک جاری رکھنا ہو گا۔

شروع میں معجزہ سا ہوا۔ بچہ کہنے لگا کہ اُسے «محسوس» ہو رہا ہے کہ اُسے جانا ہے۔ باپ لکھتا ہے کہ وہ اور اُس کی بیوی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔

مگر وہ خوشی زیادہ دن نہ ٹھہری۔

اسی ہفتے کا حال یہ رہا: ڈے کیئر میں روزانہ دو بار، اور عام طور پر ایک بار گھر آ کر بھی۔ باقی بچے یہ سب دیکھتے ہیں۔ اور باپ کا کہنا ہے کہ اب وہ اُس کا مذاق بھی اڑانے لگے ہیں — اور یہی بات اُن کا دل چیر دیتی ہے۔

وہ ایک اور بات بھی ایمانداری سے مانتا ہے۔ یہ سب والدین کے لیے بھی شدید جھنجھلاہٹ کا باعث ہے۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ بچے کے سامنے اپنی بے زاری ظاہر نہ کریں، مگر وہ جانتا ہے کہ وہ ہر بار کامیاب نہیں ہوتے۔

«مجھے معلوم ہے کہ نظری طور پر پانچ سال کے بچے کا مکمل پوٹی ٹرینڈ ہونا لازم نہیں،» وہ لکھتا ہے۔ «مگر ارد گرد کے تمام بچوں کو دیکھ کر ہم صاف ایک استثنا لگتے ہیں۔»

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

جلد ہی نشوونما کا معمول کا معائنہ ہے۔ والدین وہاں مزید طبی مدد مانگیں گے۔ باپ کے الفاظ میں، فی الحال یہی اُن کا آخری سہارا ہے۔

اور پھر وہ سوال آتا ہے جو ہر تھکے ہوئے والدین کے دل میں ہوتا ہے: کیا کسی نے یہ سب جھیلا ہے؟ کیا کوئی روشنی کی کرن ہے؟

جواب دو بالکل مختلف سمتوں سے آئے۔

ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ اُس کے پاس کوئی مشورہ نہیں، کیونکہ وہ خود بھی اسی مرحلے میں پیچھے کھڑا ہے۔ مگر وہ اس باپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہے۔ اُس کے مطابق اس ساری روداد میں سب سے نمایاں چیز مسئلہ نہیں، بلکہ وہ صبر اور محبت ہے جو یہ والدین پہلے ہی دے چکے ہیں — اور اُس نے سب کی کامیابی کی دعا کی۔

ایک اور تبصرہ نگار نے بالکل مختلف نسخہ پیش کیا۔ اُس کا بیٹا اب تقریباً چھ سال کا ہے اور تین سال کی عمر سے مکمل ٹرینڈ ہے — چھوٹی بہن کی پیدائش کے فوراً بعد۔

اُس کی دلیل کا مرکز ایک ہی جملہ تھا: جیسے ہی پُل اپ پینٹ بند ہوئیں، رات کا مسئلہ بھی ختم ہو گیا۔ اُنہوں نے چادر کے نیچے ایک واٹر پروف شیٹ رکھی، ایک مہینے بعد اسے بھی ہٹا دیا، اور پھر کبھی ضرورت نہ پڑی۔

اور ایک اور چیز تھی: انعام۔ ہر کامیاب بار پر بچے کو ایک کھلونا گاڑی ملتی۔ بیس گاڑیوں کا ایک ہی پیکٹ پورا کام کر گیا۔

اب وہ اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے ساتھ یہی طریقہ دہرانے جا رہا ہے، بس یہ الجھن ہے کہ گاڑیاں اُس کے لیے صحیح انعام ہیں یا نہیں — کیونکہ بڑی بیٹی پر مٹھائی کام کر گئی تھی، مگر چھوٹی کو میٹھا پسند ہی نہیں۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں دو سوچیں ٹکراتی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ جسمانی مسئلہ ہے، ڈاکٹر کا راستہ درست ہے، اور بچے پر دباؤ صرف نقصان دے گا۔ دوسری طرف وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نرمی اپنی جگہ، مگر رات کی پینٹ اور ڈھیلا نظام خود ایک سہارا بن چکا ہے جسے ہٹانا ہو گا۔

اور بیچ میں ایک پانچ سالہ بچہ کھڑا ہے، جو ڈے کیئر میں طعنے سن رہا ہے اور گھر آ کر بھی وہی شرمندگی اٹھا رہا ہے۔

ہمارے شو کے دونوں میزبان اس کہانی کو کھول کر بیٹھتے ہیں، دو مخالف کیمپوں میں بٹ جاتے ہیں، اور آخر میں ایک ایسا فیصلہ سناتے ہیں جو شاید آپ کے اپنے گھر کا رخ بدل دے۔

0:00
0:00
Link copied ✓