ایکو پوائنٹ کی پہاڑیوں کا پراسرار مسافر: 20 سال بعد ڈی این اے نے کھولا خاموش موت کا راز

آنکھوں کی نایاب بیماری، ہاتھ سے لکھا تلخ نوٹ اور لٹویا کی سرحدیں—آسٹریلیا کے ایکو پوائنٹ کیس کی سچی اور دردناک داستان۔
Urdu

ایکو پوائنٹ کی پہاڑیوں کا پراسرار مسافر: 20 سال بعد ڈی این اے نے کھولا خاموش موت کا راز · Avonetics

🎧 Listen to this episode
Plays on Spotify · Open on Spotify ↗
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

جون 2004 کی ایک سرد صبح، آسٹریلیا کے ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے مشہور سیاحتی مقام 'ایکو پوائنٹ' کے گھنے جنگلات میں ایک لاش ملی۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کا یہ شخص کریم رنگ کی جرسی، لال کارڈیگن اور کام والے براؤن بوٹ پہنے ہوئے تھا۔ اس کے پاس کوئی شناختی کارڈ نہیں تھا، لیکن ایک لال رنگ کا سرفنگ بیک پیک اور اس میں موجود ہاتھ سے لکھا نوٹ اس کے آخری ایام کی دردناک کہانی سنا رہا تھا۔

نوٹ میں لکھا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کی تیزی سے گرتی ہوئی بینائی کے باعث اب مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اس نوٹ کی زبان اور انداز سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ آسٹریلوی کلچر اور بولی سے اچھی طرح واقف تھا۔ ماہرین کے مطابق وہ آنکھوں کی ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھا جس میں آنکھوں کے سامنے دھندلے دھبے آ جاتے ہیں اور اس دور میں اس کا کوئی طبی علاج موجود نہیں تھا۔

Read nextنارنجی واسکٹ کا ڈرامہ: ہوم ڈپو میں ایک اجنبی کو 'میں یہاں کام نہیں کرتا' کے تجربے سے کیسے بچایا گیا؟

گذشتہ 22 سالوں تک یہ کیس نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے لیے ایک راز بنا رہا۔ تاہم، حال ہی میں سامنے آنے والی جدید جینیاتی ڈی این اے رپورٹ نے اس پراسرار کیس کو ایک نیا موڑ دیا ہے۔ ڈی این اے کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس شخص کا خاندانی تعلق مشرقی یورپ کے ملک 'لٹویا' (Latvia) سے تھا۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ وہ 1950 سے 2000 کے درمیان آسٹریلیا ہجرت کر کے آیا ہو گا۔

اس نئے انکشاف کے بعد عوامی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ اس شخص کی پہنچی ہوئی پوشاک، سگریٹ کا برانڈ اور تحریر کا انداز بتاتا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے آسٹریلیا میں ہی مقیم تھا اور بینائی ختم ہونے کی مایوسی نے اسے اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق، کام کرنے کی صلاحیت کھو دینا ایک محنت کش کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

دوسری جانب، ایک اور تجزیہ کار نے نقطہ اٹھایا کہ بینائی سے محروم شخص کے لیے کاٹومبا کی پہاڑی چٹانوں پر چلنا انتہائی خطرناک تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہو کر چٹان سے نیچے گر گیا ہو۔ اس کے علاوہ، یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا 2004 میں آنکھوں کے معالجین اور اسپتالوں کے ریکارڈ کی صحیح طرح سے چھان بین کی گئی تھی؟

پولیس نے اب آسٹریلیا میں مقیم لٹوین کمیونٹی سے ڈی این اے نمونے فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس کے رشتہ داروں کی نشاندہی ہو سکے۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اس میں کسی قتل کا عنصر شامل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تنہا انسان کی دردناک داستان ہے۔

اس پراسرار واقعے کی نفسیاتی گرہوں، جینیاتی انکشافات اور تفتیشی خامیوں پر ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبانوں نے 'سچی وارداتیں' میں سیر حاصل بحث کی ہے۔

0:00
0:00
Link copied ✓