19 سال کی عمر میں بوڑھی جلد کا خوف: میٹل سکرپرز اور ٹیننگ نے چہرے کو تباہ کر دیا!

19 سال کی عمر میں بوڑھی جلد کا خوف: میٹل سکرپرز اور ٹیننگ نے چہرے کو تباہ کر دیا! · Avonetics
خوبصورتی اور شفاف جلد کا حصول آج کل ہر نوجوانی کی سب سے بڑی خواہش بن چکا ہے، لیکن معلومات کی کمی اور ناقص حکمت عملی بعض اوقات چہرے کو سنوارنے کے بجائے بگاڑ دیتی ہے۔ ایک 19 سالہ لڑکی کی کہانی نے اس وقت بیوٹی ورلڈ میں ہلچل مچا دی ہے جو اپنی کم عمری میں ہی پیشانی پر گہری جھریوں، بند مساموں اور ایکنی کے پرانے داغوں کا شکار ہو چکی ہے۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق، وہ اپنے چہرے کی خرابی اور ڈیہائیڈریشن سے شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔ اس وقت وہ ساحل سمندر پر چھٹیوں کے دوران ٹیننگ کر رہی ہے، لیکن شیشے میں اپنی پیشانی اور مسکراہٹ کی لکیروں کو دیکھ کر اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے کہ کیا یہ سورج کی شعاعوں سے پہنچنے والا مستقل نقصان ہے۔
Read nextبیوٹی انفلوئنسر کا انکشاف یا انتقام؟ آن لائن ڈرامہ عدالت تک پہنچ گیا
جب اس لڑکی نے اپنی سکن کیئر روٹین کا انکشاف کیا تو خوبصورتی کے ماہرین دنگ رہ گئے۔ اس کی روزمرہ کی روٹین میں 10 فیصد نیاسینامائیڈ، ملکی ٹونر، ہائپوکلورس ایسڈ، ہائلورونک ایسڈ، وٹامن سی شیٹ ماسکس، اور سردیوں کا ریٹینول شامل ہے۔ اس کے علاوہ، وہ مساموں کی صفائی کے لیے میٹل سکرپر ٹول سے چہرے کو رگڑتی ہے اور ہفتہ وار ایسڈ پیلنگ کا استعمال بھی کرتی ہے۔
اس معاملے پر بیوٹی شائقین دو واضح دھڑوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک تبصرہ نگار کا کہنا تھا کہ "19 سال کی عمر میں اتنی زیادہ پروڈکٹس اور دھاتی اوزاروں کا استعمال جلد کے قدرتی بیریئر کا قتل عام ہے۔ چہرے کی جھریاں دراصل شدید ڈیہائیڈریشن کی نشانی ہیں اور ٹیننگ اس نقصان کو مزید بڑھا رہی ہے۔"
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsجبکہ دوسرے ماہرین کا خیال تھا کہ مسئلے کی جڑ غلط پروڈکٹس کا انتخاب ہے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ "گاڑھے ملکی ٹونرز اور آئل کلینزنگ کی وجہ سے مسام مسلسل بند ہو رہے ہیں۔ میٹل ٹول کا استعمال بلا شبہ خطرناک ہے لیکن مساموں کی صفائی کے لیے BHA ایسڈز کی درست مقدار ضروری ہے۔"
کیا کیمیائی اجزاء اور اوزاروں کا یہ اوور ڈوز جلد کی قدرتی چمک کو ہمیشہ کے لیے ختم کر رہا ہے؟ اس تمام ڈرامے اور سکن کیئر کی باریکیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبان اس قسط میں ایک زبردست بحث کر رہے ہیں۔