سستی گاڑیاں اور مہنگے شاہکار: کیا بنیادی ماڈل کی کاریں واقعی زیادہ کارآمد ہوتی ہیں؟

سستی گاڑیاں اور مہنگے شاہکار: کیا بنیادی ماڈل کی کاریں واقعی زیادہ کارآمد ہوتی ہیں؟ · Avonetics
جدید گاڑیوں کی دنیا میں جہاں کمپنیاں ہر سال نئی سے نئی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی دوڑ میں شامل ہیں، وہیں ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے۔ اکثر اوقات بنیادی اور سستی گاڑیوں کے ماڈلز جنہیں محض قیمت کم رکھنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اپنے پرتعیش اور مہنگے ماڈلز کے مقابلے میں ڈرائیورز کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔
یہ دلچسپ موضوع حال ہی میں اس وقت زیر بحث آیا جب کام کے سلسلے میں سفر کرنے والے ایک تجربہ کار ڈرائیور نے ٹیکساس کے ہوائی اڈے سے ایک بنیادی ماڈل کی کیا سپورٹیج (Kia Sportage) کرائے پر لی۔ اس ڈرائیور کا تجربہ عام طور پر جدید گاڑیوں کے خودکار حفاظتی نظام خصوصاً لین کیپ اسسٹ اور ایڈاپٹیو کروز کنٹرول کے ساتھ کافی تلخ رہا تھا۔ مہنگی گاڑیوں میں موجود کیپسیٹو اسٹیئرنگ سینسرز ڈرائیور کو مسلسل بیپ بجا کر خبردار کرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھے۔ اگر ڈرائیور نے تھوڑا سا بھی ہلکا ہاتھ رکھا ہو تو گاڑی خوفزدہ ہو کر شکوہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔
Read nextبریک چیکنگ کا سنسنی خیز انجام: جب سڑک پر غصہ دکھانے والے کو مل گیا فوری سبق!
لیکن سستی کیا سپورٹیج میں ڈرائیونگ کے دوران اس ڈرائیور نے ایک غیر متوقع اور خوشگوار تبدیلی دیکھی۔ اس گاڑی نے گھنٹوں ڈرائیونگ کے باوجود ایک بار بھی بے جا بیپ نہیں بجائی۔ جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ گاڑی تیار کرنے والی کمپنی نے اس ماڈل کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم رکھنے کے لیے اس میں سے کیپسیٹو سینسر ہی ختم کر دیے تھے۔ اس کے بجائے اس میں بنیادی ٹارک سینسر استعمال کیا گیا تھا جو ڈرائیور پر بے جا شک نہیں کرتا۔
اس واقعے نے گاڑیوں کے شائقین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ بہت سے ڈرائیورز نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سستی گاڑیاں اکثر ڈرائیونگ کو زیادہ پرسکون بناتی ہیں۔ ایک مبصر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بنیادی ماڈل کی گاڑیوں میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان میں سن روف نہیں ہوتا، کیونکہ سن روف وقت کے ساتھ لیک ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی مرمت پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔"
ایک اور گاڑی کے شوقین نے نشاندہی کی کہ چھوٹے پہیے (Smaller wheels) اور عام کپڑے کی نشستیں (Cloth seats) ڈرائیونگ کا بہترین تجربہ فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹے پہیے نہ صرف گاڑی کی مائلج کو بہتر بناتے ہیں بلکہ سڑک کے کھڈوں اور جھٹکوں کو بھی نرمی سے جذب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی چمڑے کی سیٹوں کے مقابلے میں کپڑے کی نشستیں موسم گرما میں زیادہ آرام دہ رہتی ہیں اور ان کی سلائی بھی جلدی خراب نہیں ہوتی۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsدوسری طرف، کچھ لوگوں نے لگژری گاڑیوں کی خصوصیات کا دفاع بھی کیا۔ ایک تبصرہ نگار کا کہنا تھا کہ "اگرچہ ٹارک سینسر سستا حل ہے، لیکن آڈی یا بی ایم ڈبلیو جیسی گاڑیوں میں موجود کیپسیٹو سینسر زیادہ آسان ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ڈرائیور کو اسٹیئرنگ پر زور نہیں لگانا پڑتا بلکہ صرف ہاتھ رکھنا ہی کافی ہوتا ہے۔"
تاہم، زیادہ تر ڈرائیورز کا ماننا تھا کہ خودکار ڈگی کے بجائے دستی ڈگی زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے اور اس میں برقی خرابی کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ ٹیکنالوجی کی یہ بھرمار کبھی کبھار ڈرائیور کے لیے سہولت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔
گاڑیوں کی دنیا کی اس سنسنی خیز اور دلچسپ بحث کی مکمل تفصیلات اور ہوسٹس کی باہمی نوک جھونک سننے کے لیے، پوڈکاسٹ "رفتار" کی یہ قسط لازمی سنیں جہاں ہمارے ہوسٹس اس معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہیں!