پانی میں دوبارہ اترنے کا جنون اور کینسر پر فتح: کیا بچپن کا بپتسمہ کافی نہیں تھا؟

پانی میں دوبارہ اترنے کا جنون اور کینسر پر فتح: کیا بچپن کا بپتسمہ کافی نہیں تھا؟ · Avonetics
روحانی زندگی میں ایسے موڑ کم ہی آتے ہیں جو بیک وقت دل کو چھو لیں اور ایک گرما گرم بحث کو جنم دے دیں۔ اس اتوار ایک مومن نے اپنے اس چونکا دینے والے فیصلے کا اعلان کیا کہ اس نے اپنے بچپن کے بپتسمے کے برسوں بعد ایک بار پھر پانی میں ڈبکی لگا کر مسیح کے ساتھ نیا عہد باندھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ برسوں تک وہ اندرونی بے چینی کا شکار رہا کیونکہ بچپن کا فیصلہ اس کے والدین کا تھا، اس کا اپنا نہیں۔ اس نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ وہ یسوع مسیح کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ اب وہ مکمل طور پر، اپنے ہوش و حواس کے ساتھ خدا کی راہ پر چلنے کے لیے تیار ہے۔ جیسے ہی یہ گواہی سامنے آئی، برادری میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ایک تبصرہ نگار نے جوش و خروش سے کہا کہ اپنے ایمان کا خود فیصلہ کرنا دنیا کی سب سے خوبصورت بات ہے اور خدا اس جرات مندانہ انتخاب پر بے حد خوش ہوگا۔ ان کا ماننا تھا کہ رسمی روایات کے مقابلے میں جاگتا ہوا دل زیادہ اہم ہے۔ لیکن دوسری طرف روایت پسند حلقے اس بات پر سخت نالاں دکھائی دیے۔ ایک اور تبصرہ نگار نے شدید اختلاف کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر خدا نے بچپن میں ہی آپ پر اپنی ابدی مہر ثبت کر دی تھی تو کیا دوبارہ بپتسمہ لے کر آپ خدا کے اس فضل پر شک نہیں کر رہے؟ ان کے مطابق بپتسمہ انسان کا کام نہیں بلکہ خدا کا مکمل عمل ہے۔ ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ ویٹیکن سے آنے والی ایک تصویر نے سب کی آنکھیں نم کر دیں۔ کینسر کی بڑی سرجری کے بعد پہلی بار سامنے آنے والے پوپ نے کمزور آواز میں کہا کہ ہسپتال کے تاریک اور تکلیف دہ کمرے میں انہیں مومنین کی دعاؤں نے ہی زندہ رکھا۔ ایک طرف خود کو مٹانے اور نئے سرے سے جینے کا ولولہ تھا اور دوسری طرف کینسر کے بستر سے پھوٹتی ہوئی امید۔ یہ دونوں کہانیاں ثابت کرتی ہیں کہ ایمان کوئی آسان راستہ نہیں بلکہ قربانی اور تسلیم و رضا کا مستقل امتحان ہے۔ ہمارے شو کے میزبان پوڈکاسٹ کی اس خصوصی قسط میں اس پیچیدہ روحانی سفر اور اس کے تمام باطنی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔