مکھن کا پھٹنا اور خشک گوشت: کیا آپ بھی کچن میں یہ بنیادی غلطیاں کر رہے ہیں؟

مکھن کا پھٹنا اور خشک گوشت: کیا آپ بھی کچن میں یہ بنیادی غلطیاں کر رہے ہیں؟ · Avonetics
کچن میں گھنٹوں محنت کرنے کے بعد اگر ڈش کی ساس پھٹ جائے یا گوشت خشک ہو جائے تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک شوقین باورچی نے جب سٹینلیس سٹیل کے پین میں چکن بنانے کے بعد کلاسک مکھن والی ساس بنانے کی کوشش کی تو ہر بار ساس تیل اور پانی میں تقسیم ہو گئی۔ یہی نہیں، بلکہ چار گھنٹے تک اوون میں پکائے گئے شارٹ ربز بھی نرم ہونے کی بجائے بالکل خشک اور ریشے دار بنے۔
اس مسئلے نے کھانے کے ماہرین اور گھریلو باورچیوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ماہر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگ پین کی برقرار رہنے والی حرارت کا اندازہ نہیں لگا پاتے۔ مکھن 68 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر جاتے ہی اپنی ساخت کھو دیتا ہے۔ اگر پین کو چولہے سے ہٹانے کے بعد بھی ساس پھٹ رہی ہے، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ ساس کو پین سے نکال کر کسی اور برتن میں منتقل کیا جائے اور پھر مکھن ملایا جائے۔
Read nextہلدی اور پیکورینو چیز کا پاستا: کیا یہ ایک ذائقہ دار معجزہ ہے یا اطالوی کچن کی توہین؟
دوسری طرف، کچھ لوگوں نے اسے اجزاء کی کیمسٹری قرار دیا۔ ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ بازار کے عام اسٹاک میں ہڈیوں سے نکلنے والا قدرتی جلیٹن نہیں ہوتا، جو ساس کو جوڑ کر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر اسٹاک میں جلیٹن نہ ہو تو مکھن اور پانی کبھی آپس میں نہیں مل سکتے، چاہے درجہ حرارت کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ اس کا حل تھوڑی سی کریم یا سرسوں کا پیسٹ شامل کرنا ہے۔
Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avoneticsشارٹ ربز کے خشک ہونے پر بھی آراء تقسیم تھیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اوون کا درجہ حرارت 150 ڈگری بہت زیادہ تھا اور اسے 135 ڈگری پر مزید وقت دینا چاہیے تھا۔ جبکہ دیگر ماہرین نے کہا کہ چار گھنٹے کا وقت ضرورت سے زیادہ تھا، جب تین گھنٹے پر ہی گوشت نرم ہو گیا تھا تو اسے مزید اوون میں رکھنا اس کی تمام نمی کو نچوڑ گیا۔
کیا کچن کی ان ناکامیوں کا حل درجہ حرارت کے تھرمامیٹر میں ہے یا ترکیب کے اجزاء کو تبدیل کرنے میں؟ ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبان اسی دلچسپ موضوع پر کھل کر گفتگو کر رہے ہیں۔