اے آئی نے پورا آسمان 'مکمل' کر دیا، اور فلکیات دان بھڑک اٹھے!

اے آئی نے پورا آسمان 'مکمل' کر دیا، اور فلکیات دان بھڑک اٹھے! · Avonetics
JSELF Gel Memory Foam
Stop letting a sagging bed drain your vitality. Our dual-layer mattress topper provides the targeted support your back craves after long hours at a desk, offering comfort that may…
See it →
آسمان کو ایک نئی آنکھ سے دیکھنے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، اور ساتھ ہی ایک طوفان بھی۔
ایک اے آئی سائنسی ٹول کی مدد سے پورے آسمان کا الٹرا وائلٹ روشنی میں پہلا 'مکمل' نقشہ تیار کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی اور جسے زمین کی فضا تقریباً پوری روک لیتی ہے۔
Read nextجب 'ہاں' کہنا بند کر دیا: دو لوگوں کی سکون تلاش کرنے کی کہانی
پرانے مشاہدات ٹکڑوں میں تھے۔ کہیں خلا، کہیں نہ ملتے کنارے۔ نئے نقشے میں اے آئی ان خلاؤں کو پُر کرتا ہے اور کناروں کو جوڑ کر ایک ہموار آسمان پیش کرتا ہے۔
پہلی نظر میں نتیجہ دم بخود کر دینے والا ہے۔ ایک مداح نے بس اتنا لکھا: 'واہ! شاندار! شیئر کرنے کا شکریہ۔'
لیکن ہر کوئی اتنا خوش نہیں۔
ایک تبصرہ نگار نے شدید غصے میں طنز کیا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے اے آئی سے کہا جائے کہ درست تصویروں کے خلا بھر کر اور کنارے جوڑ کر انہیں بگاڑ دو۔ ان کے مطابق ایسے لوگ 'سائنسدان ہونے کا ناٹک' کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ شاید اس کام کے لیے ایک اصل پی ایچ ڈی کو معاوضہ دیا گیا، مگر اس سے نتیجہ اچھی سائنس نہیں بن جاتا۔
اس تنقید کی جڑ ایک بنیادی اصول ہے: فلکیات میں ہر پکسل ایک پیمائش ہوتا ہے۔ جو حصہ کبھی ماپا ہی نہیں گیا، وہاں دکھنے والی روشنی اندازہ ہے، مشاہدہ نہیں۔
اور پھر وہ سوال آیا جس نے بحث کا رخ ہی بدل دیا۔ ایک اور قاری نے سادگی سے پوچھا: 'ڈیٹا کی تصدیق کیسے کی گئی؟'
یہی وہ نکتہ ہے جس پر سارا معاملہ ٹکا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ خلا پُر کرنا فلکیات میں نیا نہیں، اور اگر واضح بتایا جائے کہ کون سا حصہ ماپا گیا اور کون سا اخذ کیا گیا، تو ایسا نقشہ تحقیق کے لیے رہنما بن سکتا ہے۔
Tommy Hilfiger Tommy Girl Poolside Edition
Original Fragrance. Tommy Girl Poolside Edition, the new limited edition fragrance for women. Floral Solar. Manufactured in Italy
See it →
ناقدین کا جواب ہے کہ جب تک تصدیق کا طریقہ شفاف نہ ہو، یہ ایک خوبصورت تصویر سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس تنازع کے بالکل برعکس، ایک شوقیہ فلکیاتی فوٹوگرافر کی تصویر 'دہکتا سگنس' بھی توجہ کھینچ رہی ہے۔
یہاں کوئی خلا مشین سے نہیں بھرا گیا۔ تین سو سیکنڈ کی 93 ایکسپوژرز، کل سات گھنٹے پینتالیس منٹ، بورٹل 4 کے آسمان تلے۔
آلات میں ٹوپ ٹیک اے ٹی آر 2600 سی کیمرہ، اومیگون پرو اے پی او 61/360 ٹرپلٹ دوربین، 0.75 گنا ریڈیوسر، اوپٹولونگ ایل پارا فلٹر اور اسکائی واچر اسٹار ایڈوینچرر جی ٹی آئی ماؤنٹ شامل ہیں۔
نتیجہ؟ برج دجاجہ کے سرخ دہکتے گیس کے بادل، جن کا ہر فوٹون راتوں کی محنت سے کمایا گیا۔
ایک طرف مشین کا مکمل کیا گیا آسمان، دوسری طرف انسان کا جاگ کر جمع کیا گیا آسمان۔ سوال یہ ہے کہ سائنس کس پر بھروسہ کرے؟
تاریک خلا کے میزبان اس پوری کہانی پر پوڈکاسٹ میں دھواں دار بحث کرتے ہیں، سننا مت بھولیے!