کیا بجلی کا سب اسٹیشن این ایف ایل کھلاڑیوں کے پٹھے توڑ رہا ہے؟ سائنس دانوں کا انکشاف

کیا بجلی کا سب اسٹیشن این ایف ایل کھلاڑیوں کے پٹھے توڑ رہا ہے؟ سائنس دانوں کا انکشاف · Avonetics
Grosy Boho Embroidered Mexican Tops
Grosy Boho Embroidered Mexican Tops for Women Bohemian Clothes, Plus Size Peasant Blouse Hippie Shirt 3/4 Sleeve Tunic · Fashion
See it →
سائنس کی دنیا میں اکثر ایسے انکشافات ہوتے ہیں جو ہمارے روزمرہ ماحول کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیتے ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے بجلی کے گرڈز اور سب اسٹیشنز سے نکلنے والی 60 ہرٹز کی برقی مقناطیسی لہریں (EMF) انسانی جسم کے رباط اور پٹھوں کے لیے خاموش خطرہ بن سکتی ہیں۔
عام طور پر برقی مقناطیسی لہروں کا معالجاتی استعمال پٹھوں کی مرمت کے لیے کیا جاتا ہے، جہاں یہ خلیات میں کولاجن کی پیداوار کو بڑھاتی ہیں۔ لیکن پرڈیو یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اگر ان لہروں کی مسلسل نمائش ماحول میں موجود شدت یعنی 8 سے 20 ملی گاؤس پر ہو، تو یہ فائدہ دینے کے بجائے خلیات کو تباہ کرنے والے انزائمز کو فعال کر دیتی ہیں۔
Read nextوی آئی پی گاہک کا ڈرامہ: الرجی کا دعویٰ کیا مگر ڈزرٹ میں سچ پکڑا گیا!
اس تحقیق کی سب سے سنسنی خیز بات امریکی فٹ بال ٹیم سان فرانسسکو 49رز کا کیس ہے۔ اس ٹیم کے پریکٹس گراؤنڈ کے قریب ایک بڑا پاور سب اسٹیشن واقع ہے، اور حیرت انگیز طور پر اس ٹیم کے متعدد کھلاڑی پٹھوں اور ٹینڈنز کی مسلسل چوٹوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا کیونکہ جب خلیات کے کیلشیم چینلز مسلسل کھلے رہتے ہیں تو آکسائیڈیٹو اسٹریس پیدا ہوتا ہے جو کولاجن کو توڑ دیتا ہے۔
تاہم، تمام سائنس دان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایک اور ماہر نے دلیل دی کہ لیبارٹری میں گائے کے ٹینڈن پر کیے گئے تجربات کو براہ راست زندہ انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور گرڈ کی لہروں کی شدت اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ انسانی جلد اور نسوں کو پار کر کے اندرونی خلیات کو اس حد تک نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ چوٹوں کی وجوہات گراؤنڈ کی سخت سطح یا کھیل کا شدید دباؤ بھی ہو سکتی ہیں۔
Live Simple Coconut Tree Sleeveless Dress
Live Simple Coconut Tree Sleeveless Summer Casual V-Neck Mini Dress - Women
See it →
اسی سائنسی تجسس کے ساتھ، حیاتیاتی علوم میں ڈیٹا کو سمجھنے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل انقلاب بھی سامنے آیا ہے۔ 'پی ٹیبل' بنانے والے ماہر نے اب 'پی ٹری' (Ptree) پیش کیا ہے، جو دنیا بھر کے 11 سائنسی درختوں کو ایک جگہ یکجا کر کے زمین پر موجود تمام حیات کا ارتقائی شجرہ پیش کرتا ہے۔ اس سے طلباء اور سائنس دانوں کو زندگی کے 3.5 ارب سالہ سفر کو سمجھنے میں بے پناہ مدد مل رہی ہے۔
کیا پاور گرڈز واقعی انسانی صحت کے لیے ایک ناپید خطرہ ہیں یا یہ صرف ایک وہم؟ ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبان اس ڈرامائی اور سائنسی کہانی کی ہر تہہ کو اپنے نئے ایپیسوڈ میں کھول رہے ہیں۔