"اس نے 50 ہزار ڈالر کا کیمرہ سمندر میں پھینک دیا!": 100 ملین ڈالر کی فلم کا سیٹ جب جہنم بن گیا

ایک اندرونی راز فاش کرنے والے سینئر کریو ممبر نے بتا دیا کہ کس طرح ہالی ووڈ کے سب سے بڑے ہیرو کی انا نے پوری پروڈکشن ٹیم کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا۔
Urdu

"اس نے 50 ہزار ڈالر کا کیمرہ سمندر میں پھینک دیا!": 100 ملین ڈالر کی فلم کا سیٹ جب جہنم بن گیا · Avonetics

🎧 Podcast episode
Coming soon — عثمان & سعدیہ are taking this one into the studio.
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

ہالی ووڈ کی رنگین دنیا کے پیچھے کتنی تاریکی اور نچوڑ دینے والی محنت چھپی ہوتی ہے، اس کا اندازہ عام شائقین کو کم ہی ہوتا ہے۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی ایک دردناک کہانی نے سینما کے پردے کو چاک کر کے وہ سچ دکھایا ہے جسے اسٹوڈیو والے ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 100 ملین ڈالر کے بھاری بجٹ سے شروع ہونے والی ایک سائنس فکشن فلم کس طرح صرف ایک اداکار کی انا کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوئی، اس کا احوال کپکپی طاری کر دینے والا ہے۔

سیٹ پر موجود ایک سینئر کریو ممبر نے انکشاف کیا کہ شوٹنگ کے پہلے ہی دن سے فضا میں کشیدگی تھی۔ فلم کے مرکزی اداکار نے ہدایت کار کے اسکرپٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنا ذاتی رائٹر ساتھ لے کر سیٹ پر آ گئے۔ روزانہ صبح جب سو سے زائد ٹیکنیشنز اور کریو ممبران 40 ڈگری کی گرمی میں کام شروع ہونے کا انتظار کرتے، تو ہیرو کے پرتعیش ٹریلر سے چیخنے اور برتن ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی ہوتی تھیں۔

Read nextشوٹنگ کے دوران مار پیٹ اور کروڑوں کا نقصان: اس بلاک بسٹر فلم کے سیٹ پر کیا ہوا تھا؟

معاملات اس وقت کنٹرول سے باہر ہو گئے جب ڈائریکٹر نے ہیرو کی مرضی کے خلاف ایک سین کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی۔ غصے میں پاگل ہو کر اداکار نے پروڈکشن کا 50 ہزار ڈالر مالیت کا ریڈ کیمرہ اٹھایا اور سیدھا سمندر میں پھینک دیا۔ اس ایک حرکت کی وجہ سے شوٹنگ تین دن کے لیے معطل رہی اور اسٹوڈیو کو روزانہ لاکھوں ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا۔

صرف اداکاروں کے تنازعات ہی نہیں، بلکہ قدرتی آفات اور تکنیکی ناکامیوں نے بھی فلم کو گھیر رکھا تھا۔ سمندر میں بنایا گیا 12 ملین ڈالر کا مہنگا سیٹ ایک ہی طوفان میں بہہ گیا۔ جبکہ فلم کا سب سے بڑا مرکز یعنی 8 ملین ڈالر کا روبوٹک ہیولا پانی میں جاتے ہی شارٹ سرکٹ ہو جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 60 دن کی شوٹنگ میں روبوٹ صرف 12 دن کام کر سکا، اور باقی فلم جھوٹے سی جی آئی (CGI) کے سہارے چھوڑنی پڑی۔

Your brand, right here.Reach story-obsessed listeners in 45+ languages → advertise on Avonetics

اس کہانی پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ناظر نے کہا کہ ہالی ووڈ کے اسٹوڈیوز کو چاہیے کہ وہ اداکاروں کو خدا سمجھنا بند کریں کیونکہ ان کی انا کی قیمت غریب کریو ممبران کو اپنے پسینے سے چکانی پڑتی ہے۔ ایک اور صارف نے دلیل دی کہ ڈائریکٹر کی عدم توجہی اور ناکام منصوبہ بندی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہوئے، ورنہ کوئی بھی اداکار اکیلا پوری فلم کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔

اس تباہ کن شوٹنگ کی مزید سنسنی خیز تفصیلات اور سیٹ کے اندر کی دیگر کہانیاں جاننے کے لیے، ہمارے میزبانوں کے ساتھ پوڈکاسٹ پر اس موضوع کی تہہ تک جائیے۔

0:00
0:00
Link copied ✓